
بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیم
حضرت اَبَّا جیؒ کی حیات ظاہرہ کے مختلف ادوار
طلوعِ آفتاب
عروج آفتاب
زوالِ آفتاب
غروبِ آفتاب
چوہدری عبدالقادرؒ
حضرت ابَّا جیؒ کے بعد سربراہِ سلسلہ
چوہدری احسان قادرؒ
چوہدری حضرت عبدالقادرؒ کے بعد سربراہِ سلسلہ
موجودہ سربراہِ سلسلہ چوہدری غلام ربَّانی مذطلہ
حضرت ابَّا جیؒ کا مزار شریف - کراچی
حضرت ابَّاء جیؒ کے قایم کردہ حضرت غوثِ اعظمؓ کی براہِ راست غلامی والے سلسلے اورطریقت و صاحبانِ طریقت پر سات(۷)کتابوں کے مصنف پروفیسر ڈاکٹر محمد فائق صدیقی قادری بدایونی
۶ زیر نظر تعارفی خاکہ ہم تین بھائیوں کی مشترکہ کوشش ہے اور ہم تینوں انتہائی فخر و مسرت کے ساتھ بارگاہ ایزدی میں بہ صمیم قلب شکر گزار ہیں کہ اللہ نے پروفیسر ڈاکٹر محمد فائق صدیقی قادری جیسے عظیم المرتبت والد کی آغوشِ عاطفت میں تربیت عطا کی۔ ابّو کی عمر اس وقت قمری کلینڈر سے ۸۲ سال ہوچکی ہے مگر آج بھی قلم ان کے ہاتھ سے نہیں چھوٹا ہے۔ وفاقی گورنمنٹ اردو کالج کراچی میں چالیس (۴۰) سال تدریسی خدمات انجام دینے کے بعد وہ اب سے اٹھارہ (۱۸) سال قبل نفسیات و تعلیم کے پروفیسر کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ۱۹۵۲ء سے آج تک لکھتے لکھتے نہ ان کا قلم تھکا اور نہ وہ خود تھکے ہیں۔۔۔ اس وقت ان کی نصابی و غیرنصابی کتب کی تعداد ساٹھ (۶۰) سے زائد ہے۔ ان کا قیام ۱۹۵۲ء سے کراچی میں ہے۔ پیدائش ہندوستان کے مشہور شہرمدینۃ الاولیاء "بدایو" کی ہے۔ تاریخ پیدائش ۲۱ شعبان ۱۳۵۴ہجری ہے۔نسلاً نجیب الطرفین صدیقی ہیں۔ از روئے مسلک قادری ہیں۔ حافظہ قابل رشک ہے، زبان و بیان پر قدرت کامل ہے۔ مزاج میں سادگی ہے۔ نفیءِ ذات ان کے مرشد کامل کا طریقہ ہے۔ مطالعہ عمیق ہے۔ آج بھی بغیر لغت آگے نہیں بڑھتے۔ ان کے پاس موجود لغات کی تعداد پچاس سے زائد ہے جو مختلف شعبہ ہائے علم کا انگریزی اردو اور فارسی میں احاطہ کرتی ہیں۔ اب سے پچاس سال قبل وہ ریڈیو پاکستان کے بے مثال کمپیئر مشہور تھے۔ صحافت سے بھی وابستگی تھی وہ کئی ادبی اور طبّی ماہناموں کے مدیر اعلیٰ بھی رہے ہیں۔ اخبارات میں کالم بھی لکھے ہیں۔ کراچی کی علمی و ادبی محفلوں کی جان رہے ہیں۔ چالیس (۴۰) سال سے زائد قلم کے ساتھ مائیک بھی ہاتھ میں رہا ہے۔ ماضی میں نہایت انجمن آرا تھے مگر ۱۹۹۰ء میں حج کے بعد سے مزاج میں تبدیلی آئی ہے اور آج گوشہ گیر ہیں اپنا یہ شعر اکثر دوہراتے ہیں۔
وہ جس کو زندگی کہتے ہیں اُس پورے تسلسل میں
اگر تو ہے تو سب کچھ ہے وگرنہ سب خسارہ ہے
حضرت ابَّا جیؒ کے سلسلے, طریقت اور صاحبانِ طریقت پر پروفیسر ڈاکٹر محمد فائق صدیقی قادری کی سات (۷) کُتب درج ذیل ہیں۔
(مبادیاتِ طریقت اور معروف روحانی سلاسل کا تعارف نیز فقر کی چھٹی ہستی سیدی حضرت غلام محمد / احمد المعروف حضرت ابّاجی رحمۃ اللہ علیہ کی گیارہ مناقب جو آپ رحمۃ اللہ علیہ کے عرس شریف کے موقع پر پیش کی گئیں اور ایک دعائیہ مسدس)
یہ کتابچہ آرٹ پیپر پر دیدہ زیب کتابت کے ساتھ سیّدی غلام محمد / احمد کی شخصیت اور آپؒ کے قائم کردہ قادری سلسلے کا اجمالی تعارف ہے۔ سیدی حضرت ابّاجی رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت اور سلسلے پر یہ پہلی مختصر تحریر ہے جو ۲۰۰۳ ء میں شائع ہوکر منظر عام پر آئی۔
یہ کتاب حضرت ابّاجی رحمۃ اللہ علیہ کے پچاسویں عرس شریف کے موقع پر پیش کی گئی جس میں آپ کے بعد "اپنے اپنے انداز میں" سلسلے کی تبلیغ و خدمت کرنے والے آپ کے محترم ہم نشینوں کے تذکرے اور سلسلہ کی پچاس سالہ تاریخ کا مختصر تعارف ہے
مندرجہ بالا دو مختصر تحریریں کتابچوں کی شکل میں ابّاجی رحمۃ اللہ علیہ کے سلسلہ کی موجودہ تصویر کشی کرتی ہیں جس میں مصنف نے انتہائی دل سوزی کے ساتھ سلسلے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں، وضعات اور بدعات (حسنہ بھی) کا حوالہ دے کر سلسلہ کے اساسی اصولوں کی نشاندہی کی ہے۔ تحریر کا انداز کہیں کہیں عاجزانہ اور کہیں ناقدانہ ہے۔